اعظم خان کے بہانے یونیورسٹی ختم کرنے کی سازش

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
gmnaimi@gmail.com

رامپور میں واقع عظیم مجاہد آزادی مولانا محمد علی جوہر کے نام سے منسوب “محمد علی جوہر یونیورسٹی” ملک کی پہلی یونیورسٹی ہے جو اپنی تعمیر وتدریس سے زیادہ اپنے خلاف ہونے والے مقدمات سے پہچانی جاتی ہے. جس وقت اعظم خان نے اس یونیورسٹی کا خاکہ اسمبلی میں پیش کیا گیا تو سیاسی دنیا میں ایک بھونچال آگیا کہ آزاد ہندوستان میں پہلی بار اتنا بڑا تعلیمی ادارہ بنانے کا اعلان ہوا تھا. اس لئے جو طاقتیں مسلمانوں کو صرف “بڑھئی،مکینک اور رنگ پینٹر ہی دیکھنا چاہتی ہیں انہیں کب گوارا ہوسکتا تھا کہ مسلمان اعلی درجے کی تعلیم حاصل کر سکیں. بس اسی وقت سے یونیورسٹی نگاہوں کا کانٹا بن گئی اور سازشوں کا دور شروع ہوگیا:
🔹 اس وقت مرکز کی کانگریس حکومت نے “یونیورسٹی بِل” کو طویل وقت تک لٹکائے رکھا.
🔹بمشقت منظوری بھی دی تو لفظ “مولانا” ہٹا کر !!(حب کہ غیر مسلم شخصیات کے القابات سے انتسابات کا ایک عام رواج ہندوستان بھر میں ہے. “سَنت روی داس نگر، سَنت کبیر نگر وغیرہ ناموں میں لفظ “سَنت” اور اس طرح کے دوسرے الفاظ اس کی واضح مثالیں ہیں. کیا کانگریس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ حقیقت کبھی بدل نہیں سکتی کہ محمد علی جوہر ایک “مولانا” تھے.سب معلوم تھا مگر بات وہی ہے جو ہم سب سمجھ رہے ہیں)
وہ تو بھلا ہو یوپی کے گورنر جناب عزیز قریشی کا،جنہوں نے علم دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے محض ایک ہفتے کی قلیل مدت میں “التوا میں پڑے ہوئے اقلیتی کردار” کو منظوری دیکر یونیورسٹی کے کا راستہ ہموار کیا.حالانکہ انہیں اپنے اس عمل کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور مرکزی حکومت نے انہیں جلد ہی منظر نامہ سے ہٹا دیا.
2014 میں مرکزی حکومت بھلے تبدیل ہوگئی لیکن یونیورسٹی مخالفت کا جذبہ وہی رہا.رہ رہ کر یونیورسٹی پر مختلف حیلوں بہانوں سے حملے کئے جاتے رہے.لیکن 2019 کے پارلیمانی الیکشن کے بعد فرقہ پرستوں نے بانی یونیورسٹی اعظم خان کے بہانے یونیورسٹی کے خلاف محاذ کھول دیا جس میں جانے انجانے بعض مسلم لیڈران بھی فرقہ پرستوں کی سازش کا شکار ہو رہے ہیں.

سازشوں کا جال
🔹 12 جولائی اعظم خان کے خلاف زمین قبضانے کا پہلا مقدمہ درج ہوا.
🔹 17 جولائی کو ایک ہی دن میں آٹھ مقدمے درج کئے گئے.
🔹 محض ایک ہفتے کی قلیل مدت میں 26 کسانوں نے اعظم خان کے خلاف زبردستی زمین خریدنے،قبضانے کا مقدمہ درج کرایا گیا. یہ سبھی کسان عالیہ گنج واطراف کے رہنے والے ہیں.
🔹اس سے پہلے ضلع انتظامیہ نے کوسی ندی کے نشیبی علاقے کی 5 ہیکٹیر زمین پر ناجائز قبضہ کا مقدمہ بھی درج کیا.
🔹اس طرح ہفتے بھر میں 27 مقدمے درج کئے گئے.
🔹18 جولائی کو ضلع انتظامیہ نے اعظم خان کو “زمین مافیا” قرار دیا.
🔹 25 جولائی کو رامپور ایس ڈی ایم کورٹ نے یونیورسٹی گیٹ توڑنے کا حکم دیا اور ساتھ 3 کروڑ 27 لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیا.
🔹اس سے قبل رامپور سِول لائن سے سُوار جانے والے روڈ پر بنے ہوئے اردو گیٹ کو بھی ضلع انتظامیہ نے ڈھا دیا تھا.
🔹زمین مافیا قرار دئے جانے کے بعد Enforcement Directorat نے رامپور پولیس سے جملہ مقدمات کی تفصیل مانگی ہے تاکہ منی لانڈرنگ کا کیس درج کیا جاسکے.
🔹 پارلیمانی الیکشن کے درمیان 15 مقدمے درج کئے گئے.
🔹 کل ملا کر اب تک اعظم خان پر 62 مقدمے درج کئے جا چکے ہیں.
مقدمات کی تفصیل اور تیزی کو دیکھتے ہوئے ایک عام انسان بھی کہہ سکتا ہے کہ یہاں “قانون کی پاسداری” سے زیادہ “کسی کو زیر کرنے کی جلدی ہے” ورنہ اسی ملک سے ہزاروں کروڑ روپے لیکر بھاگ جانے والے مالیا،نِیرَو مودی جیسوں پر کوئی کاروائی کیوں نہیں ہوئی؟

ان زمینوں کو خریدے ہوئے دس سال سے زیادہ عرصہ گزر گیالیکن کبھی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی.
لیکن حالیہ پارلیمانی الیکشن میں ایک ہائی پروفائل لیڈر کو ہرانے اور پارلیمنٹ میں مسلم مسائل پر بولنے کے بعد سے ہی اچانک سارے “مظلومین” کو آگے بڑھا دیا گیا !!!
آخر ان کسانوں کو ورغلانے والے کون ہیں؟
اعظم خان اور ان کی پارٹی 2017 کے اوائل سے ہی حکومت سے باہر ہے اگر اِن “مظلوموں” کو فریاد کرنا تھی تو یہ تمام لوگ گذشتہ سوا دو سال(مارچ 2017 تا جون 2019) کی مدت میں کہاں غائب تھے؟
اور اچانک اِسی جولائی میں سب کیسے جاگ گئے؟

مسلم لیڈران وعوام سے گزارش

🔸 اعظم خان سے آپ کے لاکھ سیاسی اختلافات ہوں, مگر جوہر یونیورسٹی ان کی ذاتی نہیں بلکہ قوم کا سرمایہ ہے، آپ کے کسی عمل سے اس پر آنچ نہ آنے پائے.
🔸 جن لوگوں نے مقدمات کرائے ہیں اگر واقعی ان کی زمینیں کم قیمت میں بھی خریدی گئی ہیں تو یہ سوچ کر مقدمات واپس لے لیں کہ ہمارے اجداد تعلیم کے لئے بڑی بڑی جائدادیں وقف کرتے آئے ہیں.
🔸 اعظم خان ذاتی طور پر جیسے بھی ہوں، ان کے بعض سیاسی فیصلے بھلے ہی متنازع ہوں مگر انہوں نے جوہر یونیورسٹی جیسی تعلیم گاہ بنائی. آزادی کے ب

عد اتنے بڑے لیول پر بننے والی غالباً پہلی مسلم یونیورسٹی ہے. اب اس کی حفاظت بھی قوم کی ذمے داری ہے.
🔸 یونیورسٹی میں اعظم خان کے گھر خاندان کے ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے بچے تعلیم پا رہے ہیں.ایسی تعلیم گاہیں قوم کا روشن مستقبل تعمیر کرتی ہیں.
🔸 جوہر یونیورسٹی جیسے قومی ادارے کا نقصان قوم کے ہر فرد کا نقصان ہے.
🔸 ممکن ہے اعظم خان کے عمل سے نقصان اٹھانے والوں کی کاروائی سے اس وقت اعظم خان کو نقصان پہنچ جائے مگر فرقہ پرست طاقتیں صرف اعظم کو نقصان نہیں پہنچائیں گی بلکہ اعظم کی آڑ میں یونیورسٹی کو نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کریں گی.
ایک فرد کا نقصان تو صرف ایک فرد کا ہوتا ہے, مگر قوم کا نقصان سب کا نقصان ہوتا ہے.
خوب یاد رکھیں:
اعظم خان صرف ایک بہانہ ہے، قوم مسلم اور جوہر یونیورسٹی اصل نشانہ ہے. اگر یونیورسٹی کو نقصان پہنچا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی.

24 ذی قعدہ 1440ھ
28 جولائی 2019ء بروز اتوار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *