مشــــتــاق نــــوری

اس سے زیادہ اور کیا ظلم ہوگا؟ آپ کی مین لائف لائن ڈسٹرب کر دی جائے۔اپ کا برقی کنکشن دنیا بھر سے منقطع کر دیا جاۓ۔آپ کو آپ کے ہی گھر میں محصور و مقید کر دیا جائے۔آپ کے بڑے لیڈروں کو نظر بند کر دیا جائے۔ہر سو ڈیڑھ سو میٹر کی دوری پر بنے چیک پوسٹ پر آپ کی جامہ تلاشی لی جاۓ۔آپ کے لئے ڈاکٹر و ہسپتال تک پہنچنا دو بھر کر دیا جائے۔ضروری ادویات اور لازمی تغذیات کی سپلائی معطل کر دی جائے۔آپ کے تعلیمی اداروں اسکولس، کالجیز، یونیورسٹیز اور مدارس کو فوجی چھاونی میں تبدیل کر دیا جاۓ۔آپ کے بچوں کو پتھر باز کہ کر پیلیٹ گن کا نشانہ بنایا جائے۔بلا روک ٹوک کسی بھی شریف گھر میں گھس کر آرمی کے ذریعے اتھل پتھل مچائی جائے۔خواتین کے ساتھ بد سلوکی اور گندی نظر ڈالنے کے ساتھ گالیاں اور پھبتیاں کسی جائیں۔بتاؤ بھلا اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا؟ اس سے زیادہ ستم اور کیا ایجاد ہوگا؟ اس سے زیادہ کسی کا استحصال اور کیا ہوگا؟ 
آج تاک پہ رکھئے دنیا جہان کے قصے۔کسی کے ظلم کے آگے پس رہے دوسرے لوگوں کی کہانی مت چھیڑیئے۔ہم بارہا روہنگیا کی خوںچکاں داستان کی بات کرتے ہیں،فلسطین کی کربناک بے بسی کی بات کرتے ہیں،شام میں مر رہے بے گناہ لوگوں کی بات کرتے ہیں، جب کہ ہمارے کشمیر اور روہنگیا و فلسطین کے جلتے بجھتے مناظر کے مابین کافی فرق ہے۔ان میں صرف ایک بات مشترک ہے وہ یہ کہ کفر و شرک کے ٹھیکیداروں اور کروڑوں معبودان باطل کے پجاریوں نے اس قوم پر چڑھائی کر رکھی ہے جس کی علو شان اور خود مختاری کا ذکر مقدس کلام میں آیا ہے۔رب نے جس کی سر بلندی کا وعدہ کیا ہے ۔
عزرائل کے یہود سے لے کر انڈیا کے اہل ہنود تک،میانمار کے بودھ بھکشوؤں سے لے کر اسپین کے پروٹسٹینٹ اور کیتھولک کلیسائی مشرکین تک،شام کے مسلم نما بشار الاسد کی ظالمانہ قیادت سے لے کر سری لنکا کے راون بھکتوں تک،ہر جگہ مسلمان نشانے پر ہیں۔ہر کسی نے اپنے فائدے کے لئے خون مسلم کی ارزانی کو ہوا دے رکھی ہے۔
روہنگیا میں 7.5 کروڑ بودھشٹوں کے مقابلے صرف ۱۰ لاکھ ہی مسلمان تھے۔وہان اتنی چھوٹی اقلیت پر بڑی اکثریت کا دھاوا بولنا سمجھ میں آتا ہے اور انڈیا میں مسلموں کی ایسی کوئی چھوٹی آبادی نہیں رہتی بلکہ ۳۰ کروڑ پلس مسلم پاپولیشں ہے۔ اس کے باوجود آج کشمیر کی فردوس نما وادیاں جہنم بنا دی گئی ہیں۔اپوزیشن سے لے کر دنیا بھر کے تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی سے وادی میں تناؤ مزید بڑھے گا۔نئی مشکلات کا دور شروع ہوجائے گا۔کشمیری مزید ہراساں کئے جائیں گے۔لیکن بر سر اقتدار پارٹی ان سارے خدشات و واقعات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کشمیریوں کو پابند سلاسل کرکے ان کے گھروں کو زندان بنا کر کہتی ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو ان کا سہی حق ملے گا۔کشمیر کی ترقی ہوگی۔آج کشمیر کے کیا حالات ہیں لاکھ چھپانے کے بعد بھی دنیا کے سامنے آرہے ہیں۔
بقول شخصے

ہم تو اس شہر حوادث کے ہیں باسی اب جہاں 
مـوت دی جـاتـی ہـے اکـثر زنـدگی کـے نام پـر

علامہ اقبال نے کبھی کہا تھا کہ جب یاروں کی ،اپنوں کی،چاہنے والوں کی محفل ہو تو ایک مومن ریشم کی طرح نرم و گداز ہوتا ہے۔اس کے اندر کوئی کجی کوئی سختی کوئی تلخی کوئی بدمزگی نہیں رہتی لیکن جب اسی مومن کے سامنے رزم حق و باطل کا ذکر چھڑ جائے تو پھر یہ چھوڑتا بھی نہیں۔وہاں کوئی مصلحت،کوئی شارٹ کٹ، کوئی بزدلی نہیں ہوتی وہاں مومن صرف فولاد ہوتا ہے۔مگر آج ہمارا معاملہ کتنا بر عکس چلتا ہے۔ایک بھائی یا پڑوسی سے تھوڑی سی بات پر جسم کی گرمی اچھال مارنے لگتی ہے۔باڈی کے اندر سالوں سے منجمد پڑا خون ابال کھانے لگتا ہے۔تل کا تاڑ اور بات کا بتنگڑ بنا کر لمحہ بھر کی تنا تنی کو ہم ہفتوں، مہینوں بلکہ سالوں تک لمبا چلاتے ہیں۔اور جب بات اہل ہنود سے،اہل کلیسا سے،اہل سیاست سے اپنی آن بان اور مان مریادا کے تحفظ کی ہو تب ہمیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔کافروں مشرکوں کے سامنے وہ خون جوش مارنا بند کر دیتا ہے۔کچھ لوگوں کو اس وقت اپاہج نما مصلحت سوجھنے لگتی ہے۔زیادہ تر لوگ لڑنے بھڑنے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال کر نکل لیتے ہیں۔میں تو کہتا ہوں کہ اب ہماری کتابوں سے جہاد کے سارے چیپٹرس نکال دیئے جائیں۔دلیران اسلام کی پامردی و سرفروشان دین حق کی جواں مردی کے تمام تر قصے حذف کر دیئے جائیں۔اسلام کے حدی خوانوں سے معذرت کر لی جاۓ۔روح اقبال سے گزارش کی جائے کہ سر! اسلامی سماج کے متعلق آپ کا نظریہ ۲۱؍ویں صدی تک آتے آتے فرسودہ ہوگیا ہے۔ انقلابی فکر سے لبریز آپ کے شاہین صفاتی اشعار ترمیم کے متقاضی ہیں۔اب آپ کے اشعار صرف جلسوں میں سامعین کی داد وصولنے بھر کے لئے رہ گئے ہیں ۔اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

ہو حلقۂ یاراں تو بــریشـم کی طرح نـــرم 
ہو رزم حـق و بـاطـل تـو فـولاد ہـے مـومن

سر! ان جیسے انقلابی اشعار کی ترمیم کرلی جاۓ۔

آج اسلامی سماج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ایک بات پر متفق نہیں ہوتا۔یہ کسی کے لئے آواز اٹھانے سے پہلے سود و زیاں کا مائنس پلس کرتا رہتا ہے۔اس میں اتحاد کو مذموم اور وفاقی شعور کو بدعت سیئہ سمجھ لیا گیا ہے۔چھوٹے سے بڑے پلیٹ فارم تک یہ مل کر، یکجا ہوکر کام کرنا نہیں چاہتا۔یہی وجہ ہے کہ آج فلسطین کی احتجاج کرتی ماؤں بہنوں ، روہنگیا کے لاچار سے لوگوں کے کٹتے جسموں اور لٹتی عصمتوں اور کشمیر کے جلتے بھنتے اسلام پسند مسلموں کے ہولناک مناظر کسی تھری ڈی اسکرین پر چل رہے ہالی ووڈ کی مار دھاڑ والی ایکشن مووی کی سین کی طرح لگتے ہیں۔جیسے فلم میں خون خرابہ اور تشدد و بربریت دیکھنے کے بعد مزہ آتا ہے اسی طرح دنیا بھر میں خون مسلم کی ارزانی دیکھ کر اکثر لوگوں کو فلمی ایکشن ری پلے جیسا گمان ہوتا ہے۔یہی احساس اور شعور کی بے موت مرنے کا اشاریہ ہے۔یہیں سے ظالم کو ظلم کے لئے اکسایا جاتا ہے۔تب پھر انسان صرف دعا کرسکتا ہے، زندگی کے لئے مزاحمت نہیں کر سکتا۔بقول فیض احمد فیض

ہوتی نہیں جو قوم بھی حق بات پہ یکجا
اس قوم کا حاکم ہی بس اس کی سزا ہے۔

مشــــتــاق نــــوری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *