ٹیکسٹائل،آٹو انڈسٹری،برآمدات،اشیا خورد ونوش میں اقلیتوں کی بڑی اکثریت کاروبار کر رہی ہے جو معاشی طور پر اب ٹوٹ چکے ہیں

ممبئی (معیشت نیوز) ہندوستان میں معاشی مندی سے سب سے زیادہ مسلمان تباہ ہورہے ہیں کیونکہ ان کا کاروبار کیش پر محیط ہے اور اس وقت مارکیٹ میں نقدرقم کی فراہمی مشکل ہے۔چونکہ مسلمانوں کی اکثریت ایسے کاروبار میں ملوث ہے جہاں باقاعدہ کو ئی کارپوریٹ سسٹم کام نہیں کرتا لہذا حکومت کی طرف سے آنے والے فرامین کا سب سے زیادہ نقصان بھی انہیں کو ہی اٹھانا پڑ رہا ہے۔ بھنگار کے کاروباریوں کا کہنا ہے کہ جب سے معاشی مندی شروع ہوئی ہے کارپوریٹ کمپنیوں سے کام ملنا بند ہوگیا ہے جبکہ نقد کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے بھی ہمارے کاروبار میں پریشانیاں آرہی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی معیشت میں سست روی اور روزگار کے کئی ملین مواقع ختم ہو جانے پر ریاستی اداروں اور بہت سے ماہرین کے بعد اب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھارت کے لیے اپنے سالانہ مشورے میں اقتصادی سست روی اور آمدنی میں کمی کے بعد گہرے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ملکی وزارت خزانہ سے پوچھا ہے کہ قومی بجٹ میں براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں نیز اشیاء اور خدمات سے متعلق ٹیکس (جی ایس ٹی) کی مد میں مالی وسائل کے حصول کا جو ہدف مقرر کیا گیا ہے، آیا وہ واقعی حاصل کیا جا سکتا ہے؟حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس سال یکم اپریل سے 15 اگست تک کے درمیان براہ راست ٹیکس ریونیو میں زبردست کمی دیکھنے میں آئی۔ یہ شرح کم ہو کر 4.7 فیصد ہو گئی حالانکہ اس سال کی دوسری سہ ماہی میں یہ شرح 9.6 فیصد تھی اور مطلوبہ شرح تو 17.3 فیصد ہے۔اس سے قبل منصوبہ بندی کے حکومتی ادارے نیتی آیوگ‘ کے نائب سربراہ راجیو کمار نے بھی اقتصادی سست روی پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا، ”ملک کی اقتصادی صورت حال غیر معمولی طور پر تشویش ناک ہے۔ گزشتہ 70 برسوں میں ملکی مالیاتی شعبے کی ایسی حالت کبھی نہیں رہی۔ پرائیویٹ سیکٹر میں اس وقت کوئی کسی پر اعتماد نہیں کر رہا اور نہ ہی کوئی قرضے دینے کو تیار ہے۔” راجیو کمار کا خیال ہے، پرائیویٹ سیکٹر میں پائے جانے والے خوف کو ختم کرنا ہو گا تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔‘‘ نیتی آیوگ کے چیئرمین وزیر اعظم نریند رمودی ہیں۔ مرکزی مالیاتی ادارے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے بھی ملکی معیشت میں سست روی کو انتہائی حد تک باعث تشویش قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ”میرا ماننا ہے کہ معیشت میں سست روی یقینی طور پر بہت ہی تشویش ناک ہے۔ آپ ہر طرف دیکھ سکتے ہیں کہ کمپنیاں فکر مند ہیں۔ نئی اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن بین الاقوامی منڈیوں سے قرض لینے سے کوئی سدھار تو ممکن نہیں مگر صرف وقتی بہتری ہی آ سکتی ہے۔”آئی ایم ایف نے اپنے مشورے میں جی ایس ٹی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور بالواسطہ ٹیکس نظام کو مزید سہل بنانے پر زو ر دیا ہے۔ اقتصادی سست روی کا اثر مختلف شعبوں پر واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ کئی اہم صنعتوں میں بڑے پیمانے پر ملازمین کی ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق آٹو موبائل سیکٹر پر اس اقتصادی سست روی کا سب سے زیادہ اثر پڑا ہے۔ سوسائٹی آف انڈین آٹو موبائل (سیام) کے مطابق آٹو موبائل انڈسٹری میں دس لاکھ ملازمتوں کے ختم ہو جانے کاخطرہ اور بڑھ گیا ہے۔ مزید یہ کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے، تو یہ تعداد اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔بھارت کی فیڈریشن آف آٹو موبائل ڈیلرز (فاڈا) کے مطابق گزشتہ تین ماہ یعنی مئی سے جولائی کے درمیان گاڑیاں فروخت کرنے والے تاجروں نے اپنے تقریباً دو لاکھ ملازمین فارغ کر دیے۔ فاڈا کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں کسی بہتری کی کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی۔ مستقبل میں مزید ملازمتیں ختم ہونے سے بہت سو شو رومز بند ہو سکتے ہیں۔ فاڈا کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 18 ماہ میں 271 شہروں میں 286 آٹو موبائل شورومز بند ہو چکے ہیں۔ کاروں کی فروخت میں 31 فیصد کمی ہو چکی ہے جو گزشتہ 19برسوں کی سب سے اونچی شرح ہے۔
اس وقت ٹیکسٹائل انڈسٹری کی حالت بھی نہایت خراب ہے۔ اس شعبے سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر دس کروڑ افراد کا روزگار جڑا ہوا ہے۔ لیکن ملک بھر میں ایک تہائی اسپننگ ملیں بند ہو چکی ہیں اور جو چل رہی ہیں، وہ بھی خسارے میں ہیں۔ ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن آف انڈیا نے پچھلے دنوں ملک کے متعدد قومی اخبارات میں ایک اشتہار شائع کروا کر مودی حکومت کی توجہ اس تشویش ناک صورت حال کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی تھی۔ اس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اب تک 25 لاکھ سے 50 لاکھ تک ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔معیشت میں سست روی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید پر بھی کافی اثر پڑا ہے۔ دیہی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ بسکٹ تیار کرنے والی ایک 90سال پرانی اور سب سے بڑی کمپنی پارلے نے اسی سست روی کی وجہ سے اپنے دس ہزار سے زائد ملازمین کو ملازمتوں سے نکال دینے کا عندیہ دیا ہے۔ کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ بالخصوص دیہی علاقوں میں بسکٹ کی فروخت بہت کم ہو جانے کی وجہ سے کمپنی اپنی پیداوار کم کر سکتی ہے اور ایسا ہونے پر بڑی تعداد میں ملازمین کو برطرف کیا جا سکتا ہے۔پارلے اپنے بسکٹوں کا ایک پیکٹ صرف پانچ روپے میں فروخت کرتی ہے، جو کہ دیہی علاقوں میں بہت مقبول ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے بسکٹوں کی فروخت میں سات سے آٹھ فیصد تک کی کمی ہو چکی ہے۔ بھارت ہی میں بسکٹ تیار کرنے والی ایک اور بہت بڑی کمپنی برٹانیہ کا کہنا ہے کہ لوگ اب پانچ روپے کا بسکٹ کا پیکٹ خریدنے سے پہلے بھی دو مرتبہ سوچتے ہیں۔برآمدات کے محاذ پر بھی اس وقت بھارت کی صورت حال اچھی نہیں ہے۔ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کی ایک رپورٹ کے مطابق اپریل سے جون 2018 کے درمیانی عرصے میں بھارت نے 1064 ملین امریکی ڈالر کہ مصنوعات برآمد کی تھیں۔ لیکن اس سال کے اسی عرصے میں ملکی برآمدات کی مالیت بہت زیادہ کمی کے بعد 695 ملین ڈالر رہ گئی تھی۔ گویا برآمدات میں 35 فیصد کی کمی ہوئی۔اس تشویش ناک صورت حال کے مدنظر وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے ساتھ صلاح مشورے بھی کیے تھے۔ انہوں نے بے تحاشا ملازمتوں کے ختم ہو جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر خزانہ کو اقتصادی سست روی کے اسباب کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *