تحریر: مولاناغلام مصطفی نعیمی

آج وطن عزیز ہندوستان کو انگریزی قبضے سے آزاد ہوئے 73سال ہوگئے ہیں۔آئیے گذشتہ 73سالوں میں اپنی حالت کا تجزیہ کرتے ہیں کہ آزاد فضا میں سانس لینے کے بعد ہمارے حالات سدھرے یا مزید بگڑ گئے ہیں۔؟

ہندوستان میں انگریز کیوں آئے؟

ایک عام انسان بھی جانتا ہے کہ جب گھر میں روزگار ملتا ہے تو کوئی اپنا گاﺅں اور وطن چھوڑ کر پردیس نہیں جاتا۔یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کے عہد حکومت میں ہندوستانی افراد کو باہر جاکر روزی تلاش کرنے کی تکلیف نہیں اٹھانا پڑی لیکن اس زمانے میں برطانیہ اُس پوزیشن میں تھا جہاں آج کا ہندوستان ہے۔برطانیہ کی خراب معیشت کی بنیاد پر انگریز ا س ملک میں روزی روٹی کی تلاش میں آئے تھے جس طرح آج ہندوستانی ”اچھے دنوں“کی تلاش میں عرب گلف ویوروپ میں جاتے ہیں.
مسلمانوں کی عملداری میں ہندوستان کو “سونے کی چڑیا” کہا گیا تھا۔تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب انگریز پہلی مرتبہ ہندوستان میں آئے تو انہوں نے رات کو شاہراہوں پر بڑے بڑے روشن چراغ دیکھے تو حیرت سے دانتوں تلے انگلیاں دبا لیں کیوں کہ اس وقت تک برطانیہ میں شام ہوتے ہی سناٹا چھا جاتا تھا کیوں کہ شاہراہوں کو روشن کرنے کے لئے حکومت کے پاس نہ منصوبہ تھا نہ پیسہ.لیکن عہد مغل میں دہلی کی سڑکیں رات میں بھی دن کا نظارہ پیش کر رہی تھیں۔

🔹1772ءمیں سُناروں کی دکانوں پر اشرفیوں کے ڈھیر اس طرح لگے ہوتے تھے جس طرح آج غلہ منڈیوں میں اناج کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں۔
🔹فیروز شاہ تغلق کے زمانے میں دہلی میں 70شفاخانے مسلسل مریضوں کا مفت علاج کرتے تھے۔جب کہ آج حکومت کے پاس 35 شفاخانے بھی نہیں ہیں۔
🔹تغلق کے شاہی دربار کی جانب سے روزانہ بیس ہزار لوگوں کو مفت کھانا کھلایا جاتا تھا۔
🔹 دوہزار مسافرخانے کھلے ہوئے تھے،جہاں مسافروں کے ساتھ ان کے جانوروں کے کھانے بھی انتظام کیا جاتا تھا۔

کیا کھویا کیا پایا ؟

گذشہ 73سالوں میں ہندوستانی مسلمانوں نے پایا بہت کم لیکن کھویا بہت زیادہ ہے۔کہنے کو تو آج بھی بہت بڑی بڑی باتیں کرنے والے لیڈران موجود ہیں اور ان کی لاف وگزاف پر خوش ہوکر احمقوں کی جنت میں رہنے والے بھی کم نہیں ہیں.
مسلمانوں کی پسماندگی کے بارے میں سب سے زیادہ ان کی تعلیمی زبوں حالی کا طعنہ دیا جاتا ہے لیکن طعنہ دینے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ آزاد ہندوستان کو پہلا وزیر تعلیم دینے والی قوم، مسلمان ہی تھی۔
1947ءمیں اس قوم کی تعلیمی حالت اتنی مستحکم تھی کہ وزارت تعلیم کا قلم دان ہی ایک مسلمان سنبھالتا ہے،لیکن اس کے بعد ایسا کیا ہوا کہ مسلمان تعلیم میں کمزور ہوتے چلے گئے؟اس کی کچھ وجوہات یہ ہیں:

🔸آزادی کے بعد سب سے پہلے اردوزبان کو نشانہ بنایا گیا،کیوں کہ پاکستان اردو کو قومی زبان بناچکا تھا.اُس وقت تک اردو اس ملک کی سب سے مضبوط زبان تھی۔لیکن شدت پسند لابی نے اردو سے قومی زبان کا درجہ چھین کر ہِندی کو دیا۔جس کی وجہ سے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد بے روزگار ہوئی۔
🔸عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد،علی گڈھ مسلم یوینورسٹی علی گڑھ ،جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کا اقلیتی کردار ختم کیا گیا۔
(معاملہ عدالت میں زیر غور ہے)
🔸حکومتی اداروں سے مسلمانوں کو بڑی چالاکی سے باہر کیا گیا۔
🔸قانون سازی کرکے مسلم زمین داروں کی زمینیں ضبط کی گئیں۔
🔸وقف املاک پر قبضہ جماکر مسلمانوں کے دست وپا کاٹ دئے گئے۔
🔸تاریخی مساجد پر قبضہ کرنے کے لئے اے ایس آئیArchaeological survey, of india بنا کر نمازوں کو بند کرایا گیا.آہستہ آہستہ ان مساجد کو ختم کیا جارہا ہے۔لال قلعہ دہلی کی”اکبری مسجد” اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔

مسلم لیڈران کی مجرمانہ خاموشی

کانگریس کے مسلم لیڈران میں سب سے بڑا نام مولانا ابوالکلام آزاد کا ہے۔ان کے بعد مولانا حسین احمد مدنی،مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی،جیسے افراد کانگریس کے بڑے مسلم لیڈران میں شمار کئے جاتے تھے۔لیکن کتنا بڑا المیہ ہے کہ جب دستور ساز کمیٹی نے ہندوستانی دستور مرتب کرنا شروع کیا تو اس وقت دیگر قوم کے رہنماﺅں نے اپنی اپنی قوم کی تعلیمی، معاشی اور ملی شناخت کی بقا کو قانونی طور پر محفوظ کرایا،تاکہ مستقبل میں ان کی قوم کو حکمراں طبقہ پریشان نہ کر سکے۔لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مولاناآزاد،مولانا مدنی اور مولانا سیوہاروی, عالم وفاضل ہونے کے باوجود اس اہم موقع پر بالکل خاموش رہے،اور اسی وجہ سے دستور میں ایسی دفعات شامل کی گئیں جن سے مسلمانوں کو مستقبل میں بڑے خطرات تھے۔چند اہم دفعات یہ ہیں:
❗️دستور ساز کمیٹی نے ملک کی رہنما ہدایات ( Directive Principle) کے کالم میں دفع [44] کے تحت “یکساں سول کوڈ” کو داخل کیا۔یہ بجا طور پر مستقبل میں مسلمانوں کے اسلامی تشخص پر حملے کا ایک بڑا ہتھیار تھا،جسے اسی وقت آسانی سے روکا جاسکتا تھا لیکن خدا جانے کہ تینوں مولانا اس وقت کیوں خاموش تھے؟

دستور میں سکھوں کو [کرپان] ،ہندو کو [ترشول] جیسے ہتھیاروں

کی اجازت دی گئی لیکن مسلمانوں کو محروم رکھا گیا۔

❗️ مسلمانوں کی پوری شریعت کوکاٹ کر بمشکل نکاح، طلاق، جائداد وغیرہ کو ہی دستور میں شامل کیا گیا۔

❗️وندے ماترم جیسے ترانے کو قومی گیت کا درجہ دیا گیا۔

❗️دلت قوم کو ذات کی بنیاد پر ریزرویشن دیا لیکن “مسلم دلتوں” سے ریزرویشن کا حق چھین لیا گیا۔

❗️بعد میں اس قانون میں یہ شق شامل کی گئی کہ اگر کوئی “مسلم دلت” ترک مذہب کرلے تو اسے ریزرویشن دیا جائے گا،یعنی ترک اسلام کی ترغیب۔

مقام افسوس ہے کہ دستور سازی کے وقت مسلمانوں کا مستقبل خراب کرنے کے لئے اتنی سازشیں کی جارہی تھیں لیکن اس وقت یہ لیڈران کیوں خاموش تھے؟
دستور ساز اسمبلی میں ان قائدین کا رویہ ناقابل فہم ہی نہیں بے حد افسوسناک بلکہ قابل مذمت تھا۔ متحدہ قومیت کے علمبردار مسلم قائدین آزادی کے بعد دستور سازی ہی نہیں بلکہ کسی بھی معاملے میں کچھ کرنے سے قاصر تھے یا کرنا ہی نہیں چاہا ،یہ بات بے حد حیرت انگیز ہے،کیا ان کو دستور کی سمجھ نہیں تھی؟
یہ سوچنا بھی نادانی ہے کیوں کہ یہ لوگ معمولی پڑھے لکھے نہیں تھے بلکہ اس زمانے کے مشاہیر اہل علم میں شمار کئے جاتے تھے۔پھر آخر ان لوگوں نے ایسے معاملات پر آنکھیں کیوں بند کر رکھی تھیں؟
اس کی دو ہی وجہ سمجھ میں آتی ہیں :
1۔گاندھی،نہرو سے اندھی عقیدت۔
مولانا حسین مدنی کی گاندھی سے عقیدت کا عالم یہ تھا کہ وہ ان ُمردوں کی نماز جنازہ نہیں پڑھاتے تھے جن کا کفن کھدّر کا نہیں ہوتا تھا۔کیوں کہ گاندھی کو کھدّر کا کپڑا زیادہ پسند تھا۔

سودے بازی


یہ بات بعض افراد کو ناگوار بھلے ہی گزرے لیکن اس کا معقول جواب دیا جائے کہ وہ دستور سازی کے وقت کی سازشوں پر کس لئے خاموش تھے؟
کیا اوقاف کی جائدادوں ،حج کمیٹی کی صدارت،اور دیگر مالی مراعات نے ان کے لبوں کو سل دیا تھا؟
یا یہ لوگ گاندھی کی عقیدت میں اتنے مخمور تھے کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوگئے تھے؟
یا پھر ان لوگوں نے گاندھی کو اپنا مسیحا سمجھ لیا تھا۔
جو غلطی انہوں نے کی آج اسی کا خمیازہ پوری ملت اسلامیہ بھگت رہی ہے۔کیوں کہ آج اُنہیں سارے معاملات کو اٹھا کر آرایس ایس RSS اور بی جے پی مسلمانوں کو نشانہ پر لئے ہوئے ہے۔
یہ بھی تلخ سچائی ہے کہ اس وقت مسلمانوں کی ایک جماعت ان کو اپنا لیڈر ضرور سمجھتی تھی لیکن یہ لوگ خود کو مسلمانوں کا نہیں بلکہ عام ہندوستانیوں کا لیڈر کہتے تھے اور خود کو مسلم لیڈر کہنے سے انہیں تکلیف ہوتی تھی کیوں ان پر “متحدہ قومیت”کا بھوت سوار تھا۔لیکن ہندو قوم نے انہیں کبھی اپنا لیڈر نہیں مانا۔

یہ کیسی آزادی ؟

آج جبکہ آزادی کی 73 ویں سالگرہ کا جشن منانے کی تیاری ہے، تو مسلمانوں کی مظلومی وبے بسی یہ سوال پوچھ رہی ہے :
🔹گائے کے نام پر 150 سے زائد افراد کا قتل کر دیا گیا۔کیا یہی آزادی ہے؟
🔹مسلمانوں سے ان کا کاروبار چھین لیا گیا۔کیا یہی آزادی ہے؟
🔹اچھے علاقوں میں مسلمانوں کو مکان نہیں ملتا۔کیا یہی مساوات ہے؟
🔹اچھے اسکولوں میں مسلم بچوں کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔کیا یہی انصاف ہے؟
🔹یوپی،گجرات،راجستھان اور ایم پی جیسے بڑے صوبوں سے ایک بھی مسلم ایم پی نہیں ہے،کیا یہی آزادی ہے؟
🔹مسلم علاقوں میں تھانوں،اور غیرمسلم علاقوں میں اسکولوں کی کثرت۔کیا یہی برابری ہے؟
🔹مسلمانوں کے لباس اور کھانے پینے پر پابندی۔کیا یہی جمہوریت ہے؟
🔹مساجد ومدارس کی تعمیر پر پابندی۔کیا یہی دستوری آزادی ہے؟
🔹سکھ فوجی کوداڑھی کی اجازت اور مسلم فوجی کو ممانعت۔کیا اسی کا نام مذہبی رواداری ہے؟
🔹دستور سے ملے مذہبی حقوق پر مسلسل نقب زنی۔کیا اسی کانام احترام دستور ہے؟

درج بالاسوالات آزاد بھارت کے مسلمانوں کے درد وکرب میں ڈوبے سوالات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں ورنہ ہر گزرتا دن اور آتا ہوا کل نِت نئے مسائل لیکر آتا ہے،ایسے میں اہالیان وطن کس طرح خوشیاں مناتے ہیں جبکہ ملک 25 کروڑ کی آبادی مسلسل ناانصافیوں کی زد میں ہے۔

(سال گذشتہ لکھے گئے مضمون سے ماخوذ)

مؤرخہ 12 ذوالحجہ 1440 ھ
14 اگست 2019 بروز بدھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *